FORGOT YOUR DETAILS?

صدر پاکستان عارف علوی سے ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں نا صر حیات مگوں نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے سنیئر نائب صدر خواجہ شاہ زیب اکر م، ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر میاں انجم نثار،سارک چیمبر آف کامر س کے نائب صدر اور سابق صدر ایف پی پی سی سی آئی سینیٹر حاجی غلام علی،ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور حنیف لاکھانی، اطہر سلطان چاولہ، چوہدری سلیم بھلرکے علاوہ مرزا عبد الرحمن، شیخ سلطان رحمان، محمد علی میاں، خرم طارق سعید،شیخ اسلم اور چوہدری وحید بھی موجو د ہیں۔

صدر عارف علوی نے ایف پی سی سی آئی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ وفاقی بجٹ میں بزنس کمیونٹی کی سفارشات اور ٹیکس سسٹم کی اصلاحات کو شامل کیا جانا چاہئے۔ میاں ناصر حیات مگوں

 صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان عارف علوی نے ایوان صدر اسلام آباد میں ایف پی سی سی آئی کے صدر اور اعلیٰ وفد سے ملاقات کی اور ملک کی معاشی پالیسیوں پر ان کے دیرینہ تحفظات کو سنا۔ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگوں نے پرتپاک خیرمقدم کرنے اور کاروباری اور معاشی مسائل کو پوری تو جہ سے سننے پر صدر عارف علوی کا شکریہ ادا کیا۔ میاں ناصر حیات مگوں نے زور دے کر کہا کہ ایف پی سی سی آئی پاکستان کی کاروباری، صنعتی، اور تجارتی برادریوں کا اعلی ترین نمائندہ ادارہ ہے اور مختلف معاشی پالیسیاں بنانے کے لئے اس کے مشاورتی عمل میں اس کا شامل ہونا ضروری ہے۔میاں ناصر حیا ت مگوں نے مزید کہا کہ وفاقی بجٹ میں بزنس کمیونٹی کی سفارشات اور ٹیکس سسٹم اصلاحات کو شامل کیاجا نا چا ہیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کی شرحوں کو آسان بنانے اور ٹیکس جمع کروانے کے عمل کو آسان بنانے سے نہ صرف فعال ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہوگا بلکہ ایف بی آر کے محصولات میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔میاں ناصر حیات مگوں نے ریسٹورانٹس کی صنعت میں استحکام اور کرونا کی وجہ سے بیروزگاری کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایس او پیز کی تعمیل کو یقینی بناتے ہو ئے ریسٹورانٹس کو ڈائننگ خدمات کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔صدر ایف پی سی سی آئی میاں ناصر حیات مگوں نے دواسازی کی صنعت سے متعلقہ امور اور ہائی ٹیک آلات کی درآمد تک رسائی کے حوالے سے ان کی ضروریات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہو ں نے کہاکہ کورونا وبا کے لمبے دورانیے کے دوران ریٹیل اور پرچون سیکٹر کو سرکاری سطح پروہ تعاون نہیں ملا جو کہ باقی تمام دنیا میں حکومتوں نے ان شعبو ں میں ملازمتوں کے زیا ں کو روکنے کے لئے فراہم کیا ہے۔میاں ناصر حیات مگوں نے وضاحت کی کہ پاکستان میں کاروبار کرنے میں آسانی اور کاروبار کرنے میں لاگت میں اضا فے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، لیکن ان مسائل کو تیزی سے حل کیا جاسکتا ہے اگر متعلقہ حلقوں میں کاروباری اداروں کی مددکرنے کا جزبہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ پالیسی سازی اور معاشی اصلاحات میں ایف پی سی سی آئی کی مکمل حمایت حکومت کے ساتھ ہے۔وفد نے صدر  پاکستان عارف علوی کے بھتیجے کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی جو ایک دن قبل ہی کرونا کی پیچیدگیوں کے سبب چل بسے تھے۔ایف پی سی سی آئی کے اعلی سطحی وفد کی سربراہی ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگوں نے کی۔ دیگر اراکین میں میاں انجم نثار،ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر، خواجہ شاہ زیب اکرام، سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی، حنیف لاکھانی، اطہر سلطان چاولہ،اور چوہدری سلیم بھلر،ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور، سینیٹر حاجی غلام علی،نائب صدر سارک چیمبر آف کامرس اور سابق صدر ایف پی سی سی آئی، مرزا عبد الرحمن، شیخ سلطان رحمان، محمد علی میاں، کوآرڈینیٹرزایف پی سی سی آئی، خرم طارق سعید اور شیخ اسلم،سابق نائب صدور ایف سی سی آئی اورچوہدری وحید شامل تھے۔ ملاقا ت میں وفاقی بجٹ، صنعتی کاری اصلاحا ت،قابل تجدید توانائی، ہو ٹل انڈسٹری، زراعت، اوردستاویزی معیشت سمیت کئی مزیدمعاملات پر وسیع تر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
 سیکرٹری جنرل (قائم مقام)
TOP