شوکت ترین کی ایف پی سی سی آئی کو یقین دہانی کہ ایف پی سی سی آئی کی مشاورت کے بعد ہی بجٹ کو حتمی شکل دی جائے گی۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر میاں ناصر حیات مگوں کے ساتھ ملاقات میں وزیر اعظم کی اقتصادی ٹیم کے نئے سربراہ شوکت ترین کو پاکستان کی کاروباری، صنعتی، اور تجارتی برادری کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے خاص طور پر متعدد وجوہات کی نشاندہی کی، جن کی وجہ سے پاکستانی معیشت مسائل کا شکار ہے اور معاشی بحالی کے لیے ٹیکس کے موجودہ ڈھانچے میں مطلوبہ ریفارمز پر روشنی ڈالی۔ شوکت ترین نے ملاقات کے دوران تسلیم کیا کہ بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت کے ساتھ بنیادی اور پائیدار تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ میٹنگ کے دوران، وزیر خزانہ نے ایف پی سی سی آئی کی جانب سے "تیز رفتار شرح نمو اور ٹیکس محصولات میں اضافہ کے لئے کم ٹیکس" کے بارے میں ایف پی سی سی آئی کی طرف سے بھیجی گئی پیشکش کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پریزنٹیشن انھوں نے دیکھ لی ہے اور اس پر مناسب غور کرنے کی ضرورت ہے؛ جس کے سلسلے میں مشاورت کے تسلسل کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل بنیادوں پر بھی توجہ دی جائے گی۔ وزیر خزانہ نے ایف پی سی سی آئی کی جانب سے پیش کردہ پریزنٹیشن میں دی گئی ٹیکس پالیسی اور اصولوں کی مزید تعریف کی، جبکہ انڈایریکٹ ٹیکسوں میں مجوزہ کمی پر اپنے اختلاف کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکس جمع کردہ ٹیکسوں میں بہت وزن رکھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ محصولات میں آسانی اور کمی کی تجاویز پر مشتمل پریزنٹیشن کا نوٹس لیا گیا ہے۔ ایف پی سی سی آئی کی طرف سے تجویز کردہ مختلف ٹیکس نرخوں کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ اس کے نتائج کے لئے ان پر مزید بات چیت کی جاسکتی ہے۔ لیکن ایف پی سی سی آئی کی تجویز کہ سیلز ٹیکس کو پانچ فیصد کر دیا جائے، کو مزید بات چیت کے لئے آٹھ فیصد تجویز کیا جائے۔ کیونکہ کہ سیلز ٹیکس کی موجودہ شرح پہلے ہی 17 فیصد ہے۔معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کے لئے کسٹم ڈیوٹی پر وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کی 5 فیصد تجویز کردہ شرح کو10فیصد ہونا چاہیے، تاکہ محصولات کا تحفظ بھی کیا جا سکے۔ ایف پی سی سی آئی کی جانب سے اجلاس کے دوران پیش کی جانے والی پریزنٹیشن پر وزیر خزانہ نے ان پر غور و خوص کرنے کا وعدہ کیا۔ میاں ناصر حیات مگوں نے تجارت کو آسان بنانے اور برآمدات کی مسابقت کو بہتر بنانے کےلئے تشکیل دیئے جانے والے تمام بورڈز اور کونسلوں میں ایف پی سی سی آئی کی نامزدگیوں کو مناسب نمائندگی دینے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا، تاکہ برآمدات میں بہتری لائی جاسکے اور درآمدات کو کم کیا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی میکنگ باڈیز میں افراد کی نمائندگی میں معیشت کے تمام طبقات اور فیڈریشن کا خیال نہیں رکھا گیا۔ کاروباری اداروں کے نمائندوں کی عدم موجودگی میں سیاسی استحکام کے لئے چند بڑے کاروباری خاندانوں کو انفرادی نمائندگی دینے کا موجودہ رجحان مثبت نہیں ہے۔ ان اداروں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری نمائندوں کو بالکل بھی جگہ نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا کے دوران معیشت کی نمو اور اقتصادی و مالی استحکام کو ترجیح دی جانی چاہئے۔ ٹیکسوں کی شرح کو کم کیا جانا چاہئے، ٹیکس کی بنیاد کو بڑھانا چاہیے، اور ممکنہ ٹیکس دہندگان کی لازمی رجسٹریشن کرنی چاہیے؛ بصورت دیگر، نظام میں فائلر بننے کی شرح ہمیشہ کی طرح کم ہی رہے گی۔
میاں ناصر حیات مگوں نے موجودہ ٹیکس سسٹم پر وزیر خزانہ کی توجہ مبذول کروائی، جس میں ٹیکس وصولی کے نوٹس اور فیصلے ایک ہی ٹیکس عہدیدار کے ذریعہ کروانا آئینی تقاضوں کی نفی کرتے ہیں۔ ٹیکس سے متعلق فیصلوں کو ٹیکس آفیسر سے الگ اور خود مختار رکھنا چاہیے۔صدر ایف پی سی سی آئی نے جون تک سی این آئی سی کی شرط کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ سیلز ٹیکس جون تک جمع کیا جاسکے۔ انہوں نے غیر رجسٹرڈ افراد کو فروخت کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا، کیونکہ اس وجہ سے پہلے ہی سیلز ٹیکس کی وصولی میں کمی آچکی ہے اور جون 2021 تک غیر رجسٹرڈ افراد پر فروخت کی اس پابندی کو واپس لے کر مزید سیلز ٹیکس وصول کرنے کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔شوکت ترین نے ایف پی سی سی آئی کو یقین دہانی کرائی کہ وہ چیئرمین ایف بی آر کو فوری طور پر ایف پی سی سی آئی کے ساتھ تیز رفتار شرح نمو اور ٹیکس محصولات میں اضافے کے لئے کم ٹیکسوں پر مشاورتی عمل شروع کرنے کا مشورہ دیں گے، جو انہیں موصول ہوا ہے اور انہوں نے بھی اس کی اسکیننگ کی ہے۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ جلد ہی کراچی میں ایف پی سی سی آئی کے ہیڈ آفس کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے ایف پی سی سی آئی کے صدر کو بارہ ای اے سی گروپوں میں ایک ایک ممبر نامزد کرنے کی پیش کش بھی کی۔ جو معاشی، مالی، کاروباری، اور سیکٹرل امور پر سفارشات دے رہے ہیں۔ اس میٹنگ میں سینئر عہدیداروں کے ہمراہ عبدالرزاق داؤد، ڈاکٹر وقار مسعود خان، اور چیئرمین ایف بی آر نے بھی شرکت کی۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکرٹری جنرل (قائم مقام)




