ایف پی سی سی آئی سینٹرل اسٹینڈنگ کمیٹی برائے رئیل اسٹیٹ کے کنوینر آصف سم سم کا ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگوں کے ہمراہ گروپ فوٹو۔اس موقع پر جنید مکدا اور بڑی تعداد میں ممبران موجود ہیں۔
ایف پی سی سی آئی کی رئیل اسٹیٹ اینڈ کنسٹرکشن سیکٹر کو مکمل تعاون کی یقین دہانی
کرا چی (1 جون 2021ء) میاں ناصر حیات مگوں صدر ایف پی سی سی آئی نے پاکستان کی رئیل اسٹیٹ اینڈ کنسٹرکشن سیکٹر کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی صنعت پاکستان کے افرادی قوت کے لئے سب سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ وہ ایف پی سی سی آئی کے مرکزی قائمہ کمیٹی اجلاس کے موقع پر خطاب کر رہے تھے جس میں رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن انڈسٹری کے نمائندوں نے شرکت کی۔میاں ناصر حیات مگوں نے کہا کہ تعمیراتی سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں تو، اس سے 50-60 دیگر صنعتوں میں بھی ترقی ہو تی ہے۔جس کے ساتھ ہی تعمیراتی سامان کی طلب میں اضافہ اور اس کے نتیجے میں پیداوار کی رفتار تیز ہوتی ہے۔میاں ناصر حیات مگوں نے ایف پی سی سی آئی کی رئیل اسٹیٹ سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی کو مشورہ دیا کہ وہ تعمیراتی صنعت کے ساتھ قریبی ایسوسی ایشن کے ساتھ کام کریں کیونکہ اس سے وہ پاکستان کی معیشت کی ترقی پر زیادہ سے زیادہ اچھے اثرات مرتب کرسکیں گے۔میاں ناصر حیات مگوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی کو گذشتہ دو سالوں میں سندھ میں بلڈروں کو الاٹ کی جانے والی این او سی کی تعداد میں نمایاں کمی کے معاملے پر ایک ورکنگ پیپر تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ایف پی سی سی آئی اعداد و شمار کی مدد سے حکومت سندھ کے ساتھ اس مسئلے کو اٹھاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس رجحان کو پلٹنے کی ضرورت ہے میاں ناصر حیات مگوں نے وزیر اعظم عمران خان سے اپنی ملاقات سے بھی سامعین کو آگاہ کیاجہاں انہوں نے تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے امور بھی اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کو رہائش سے متعلق فنانسنگ کا کم سے کم 5فیصد کوٹہ الاٹ کریں ورنہ انہیں جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میاں ناصر حیات مگوں نے اس فیصلے کو حقیقی تبدیلی قرار دیا۔میاں ناصر حیات مگوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ملک کے اعلی ہاؤسنگ بورڈ میں ایف پی سی سی آئی کے ایک نامزد امیدوار کو شامل کرنا چاہتی ہے اور جلد ہی اس پر فیصلہ لیا جائے گا۔سینٹرل اسٹینڈنگ کمیٹی برائے رئیل اسٹیٹ ایف پی سی سی آئی کے کنوینر آصف سم سم نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیموں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ لیکن دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کے ذریعہ اس پروگرام کے آغاز کے بعد ہی تعمیراتی سامان کی لاگت میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس سے پروگرام کو اپنی پوری صلاحیت حاصل کرنے میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ایف پی سی سی آئی کا مطالبہ ہے اور توقع ہے کہ تعمیراتی صنعت کے لئے ایمنسٹی اسکیم کو 31 دسمبر 2021 تک بڑھایا جائے اور اس کا اعلان آئندہ وفاقی بجٹ میں کر دیا جاناچا ہیے۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکرٹری جنرل (قائم مقام)




