ایف پی سی سی آئی میں پی آر اے ایل کا بریفنگ سیشن
میاں ناصر حیات مگوصدر ، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ایف پی سی سی آئی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کسٹم جس کے سربراہ شبیر حسن منشا ہیں کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کاروبار میں آسانی اور کاروباری صنعت کو سہولیات فراہم کرنے پر PRAL کی تعریف کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب کاروباری معاملات کی بات آتی ہے تو ہر کاروباری شخص کو کسٹم ، ایف بی آر ، اور اسٹیٹ بینک سے نمٹنا پڑتا ہے۔ زیادہ تر لوگ پیچیدہ دستاویزی حوالے سے پریشان ہوتے ہیں۔ اس سیشن سے توقع کی جاتی ہے کہ ماہرین ان پیچیدگیوں کا سدباب کریں گے۔
پاکستان کسٹمز اور پاکستان ریونیو آٹومیشن پرائیویٹ لمیٹڈ (پی آر اے ایل) کے ماہرین کی ایک ٹیم نے ایف پی سی سی آئی کے ہیڈ آفس ، کراچی میں ایف پی سی سی آئی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کسٹمز کے بیک وقت زوم لنک کے ذریعے ایف پی سی سی آئی کے ہیڈ آفس کراچی (چیئر) ، کیپیٹل آفس اسلام آباد اور علاقائی دفاتر لاہور ، پشاور اور کوئٹہ میں ہونے والے اجلاس میں کسٹم ڈیوٹیوں اور دیگر ٹیکسوں کی آن لائن ادائیگی کی متعارف کردہ نئے طریقہ کار پر سیشن کیا۔
پاکستان کسٹمز اور پاکستان ریونیو کے ماہرین کی ٹیم کے ممبران میں مسٹر واجد علی ، ڈائریکٹر جنرل ، اصلاحات و آٹومیشن ، ایف بی آر جناب ثناء اللہ ابڑو ، ڈائریکٹر اصلاحات و آٹومیشن ، اور جناب ارشاد حسین ، سینئر منیجر ، PRAL ، کسٹم ہاؤس ، کراچی کے ساتھ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے نمائندے شامل تھے۔ اس سیشن میں زوم پر پورے پاکستان سے تجارتی اداروں نے شرکت کی۔
جناب واجد علی ڈی جی اصلاحات اور آٹومیشن ، ایف بی آر نے شرکا کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے اشتراک سے 2017 کے بعد سے اس نئے متعارف کرائے گئے آن لائن ادائیگی کے طریقہ کار کے بارے میں آگاہ کیا۔
یہ سسٹم WeBOC سے منسلک ہے اور ٹیکس کی ادائیگی میں توازن پیدا کرنے کے لیے پےآرڈر اور نقد رقم کے ذریعہ بھی ادائیگی کی جاسکتی ہے۔دنیا بھر کے متعدد ممالک اس طرح کے طریقہ کار کو پہلے ہی اپنا چکے ہیں۔ یہ سسٹم ایک منفرد آئی ڈی جسے پی ایس آئی ڈی کہا جاتا ہے کے ذریعہ چلتا ہے جسے متعلقہ صارفین کو جاری کیا جاتا ہے۔
پاکستان بھر میں متعلقہ بینک کی 16000 مختلف شاخیں متعین کی گئی ہیں ۔ ٹیکسوں کی ادائیگی میں مزید آسانی کے لیے صارفین کو موبائل فون سے آسان پیسہ / او ٹی سی کے ذریعہ بھی اس سسٹم کی سہولت حاصل ہے اور اس سسٹم کے ذریعے یہ سہولت چوبیس گھنٹےکی بنیاد پر ٹیکس دہندگان کے لیے دستیاب ہے۔ پچھلے سال اسے بڑے پیمانے پر نہیں اپنایا جاسکا اس سسٹم کے تحت ایک ملین سے بھی زیادہ کی ادائیگی کی جاسکتی ہے جو پہلے ممکن نہیں تھی۔لہذا ، ایک ملین یا اس سے زیادہ کی ادائیگی کرنے والے ٹیکس دہندگان پر لازم ہے کہ وہ پی ایس آئ ڈی نمبر حاصل کریں ایف بی آر کے اعلان کے مطابق ٹیکس دہندگان کےلیے نئے نظام کو اپنانے کی آخری تاریخ 20 جنوری 2021 ہے تاکہ ٹیکسوں کی ادائیگی کو زیادہ موثر اور شفاف بنایا جاسکے۔
اس سے محصولات کی وصولی سے متعلق اعدادوشمار کو کسی بھی وقت میں مرتب کرنے میں آسانی ہوگی۔ ابھی تک ، ٹیکسوں کی وصولی کا 22 فیصد نئے الیکٹرانک نظام کی مدد سے کیا جارہا ہے۔جو ٹیکس دہندگان پہلے ہی سہولت استعمال کررہے ہیں کی طرف سے ایک مثبت آراء آرہی ہے ۔اس دوران تجارتی اداروں کو اسٹیٹ بینک کے نمائندوں سمیت دیگر ٹیم ممبروں نے بھی بریفنگ دی کہ کس طرح کم سے کم رکاوٹوں کے ساتھ نیا نظام اپنایا جاسکتاہے۔
پاکستان بھر سے تجارتی اداروں کے نمائندوں کو اس سلسلے میں اپنے خیالات اور سوالات شیئر کرنے کے لیے مدعو کیا گیا۔ تجارتی اداروں نے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا اور ٹیکسوں کی ادائیگی کے نئے اختیار کردہ نظام میں اپنا اندراج کروانے پر آمادگی ظاہر کی۔
کسٹمز پرایف پی سی سی آئی کی مرکزی قائمہ کمیٹی کے کنوینر شبیر حسن منشا نے بتایا کہ ان کی کمیٹی اس موضوع سے متعلق مزید معلومات کے لیے کسٹمز اور اسٹیٹ بینک کے حوالے سے مزید سیشنوں کا اہتمام کرے گی۔
خرم اعجاز سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے شرکاء اور ماہرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تجارت میں آسانی کے لیے ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک سے ایک فوکل پرسن کی تقرری ہونی چاہیئے تاکہ ایف بی آر اور ایس بی پی اور تجارتی اداروں کے مابین قریبی رابطہ برقرار رہے۔
سید مسعود عالم رضوی
سیکریٹری جنرل




