میاں ناصر حیات مگوں کا ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس میں ایف بی آر ہیلپ ڈیسک قائم کرنے کا مطالبہ
کراچی (پ ر) میاں ناصر حیات مگوں صدر ایف پی سی سی آئی نے ڈاکٹر محمد اشفاق احمد ممبر ان لینڈ ریونیو (آپریشنز) اور ان کی ٹیم کا ایف پی سی سی آئی کے ہیڈ آفس میں موجودگی پر شکریہ ادا کیا جس میں ڈاکٹر آفتاب امام ، چیف کارپوریٹ ٹیکس آفس ، حمید میمن چیف میڈیم ٹیکس آفیسر ، نذیر شورو چیف آر ٹی او ون اور بدر الدین قریشی چیف لارج ٹیکس آفس شامل تھے ۔ یہ اجلاس ٹیکس سے متعلق امور اور بزنس کمیونٹی کو درپیش امور پر تبادلہ خیال کے لیے منعقد کیا گیا۔
میاں حیات مگوں صدر ایف پی سی سی آئی نے ٹیکس کے حوالے سےایک اہم اسٹیک ہولڈر ہونے کے باوجود ایف پی سی سی آئی سے مشاورت نہ کرنے اور اعتماد میں نہ لینے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بزنس کمیونٹی اور ایف بی آر کے درمیان بہتر رابطوں کے لیے ایف پی سی سی آئی کے ہیڈ آفس میں ایف بی آر ہیلپ ڈیسک قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔اضافی اور ایڈوانس ٹیکس کی پیچیدگیوں اور لمبے طریقہ کار کے باعث الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔ بڑے کاروباری اداروں کے لیے ہر طرح کی چھوٹ میسر ہے چھوٹی صنعتوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے سہولیات کا اعلان کرنا چاہیئے۔ہمارے ممبران کے بہت سارے سوالات ہیں اور تمام متعلقہ مسائل پر ایف پی سی سی آئی کی مشاورت سے دوبارہ غور ہونا چاہئے۔ڈاکٹر محمد اشفاق احمد ممبر ان لینڈ ریونیو نے بتایا کہ ہم نے اس سال ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کرکے ٹیکس وصولی کا ریکارڈ بنایا ہے۔ ایف بی آر نے رواں سال ٹیکسوں کی ادائیگی کی آخری تاریخ میں توسیع نہ کرنے کی پالیسی اپنائی تھی مگر اس کے باوجود ریٹرن جمع کروانے کی تاریخ میں 90 دن کی توسیع کی گئی تھی یعنی ستمبر 2020 سے دسمبر 2020 تک۔ انہیں توقع ہے کہ اس سال کے آخر تک فائلرز 3 ملین کی تعداد کو چھو سکتے ہیں۔
ایف بی آر طریقہ کار کو آسان بنانے کے ساتھ تمام ٹیکسوں کو ایک ٹیکس میں ضم کرنے پر بھی کام کر رہا ہے۔ انہوں نے تجارتی اداروں کو پالیسی سازی میں شرکت کا اہل سمجھا۔ٹیکس جمع کرنے کی شرح اور طریقہ کار کا فیصلہ پارلیمنٹ کرتی ہے اور انہیں پارلیمنٹ کی رضامندی کے بغیر اس میں تبدیلی کا کوئی اختیار نہیں ہے لیکن وہ پارلیمنٹ کو اس طریقہ کار میں ترمیم کرنے کی سفارش کرسکتے ہیں جس کے لیےانہوں نے آج کے اجلاس سے رہنمائی لی ہے۔
چائے ایسوسی ایشن کے معاملے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ 12 ویں شیڈول ایک حقیقت ہے ، تاہم ، معاملات کو حل کرنے کے لیےایف بی آر نےبے ضابطگیوں سےنمٹنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے۔ استثنیٰ سرٹیفکیٹ کے معاملے پر اٹھائے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ تاجروں کی شکایات موجود ہیں اور وہ طریقہ کار میں بہتری لانے کے لیے ذاتی طور پر اس پر کام کررہے ہیں۔
عدیل صدیقی ، نائب صدر ایف پی سی سی آئی نےشرکأ کا شکریہ ادا کیا اور ایف بی آر اور بزنس کمیونٹی کے تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا اجلاس کے اختتام پر ممبر ان لینڈ ریونیو ڈاکٹر محمد اشفاق احمد کو میاں ناصر حیات مگوں صدر ایف پی سی سی آئی کی جانب سے شیلڈ کے پیش کی گئی۔
اجلاس میں محمد حنیف لاکھانی ، اطہر سلطان چاؤلہ ، ناصر خان ، عدیل صدیقی نائب صدور انجینئر ایم اے جبار ، خرم سعید سابق نائب صدر ، مختلف ایوانوں اور انجمنوں کے نمائندوں ، ای سی اور جنرل باڈی ممبران ، اور بڑی تعداد میں نمایاں کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔
فوٹو کیپشن :
میاں ناصر حیات مگوں صدر ایف پی سی سی آئی ممبر ( ان لینڈ ریونیو آپریشن) ایف بی آر ڈاکٹر محمد اشفاق احمد کو فیڈریشن کی یادگاری شیلڈ پیش کررہے ہیں۔ اس موقع پر آفتاب امام (چیف کارپوریٹ ٹیکس آفس) ، محمد اطہر سلطان چاؤلہ ، عدیل صدیقی ، ناصر خان نائب صدور ایف پی سی سی آئی اور خرم سعید سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
سید مسعود عالم رضوی
سیکریٹری جنرل




